Home / Featured / کرکٹ ورلڈ کپ2019 پر ایک نظر

کرکٹ ورلڈ کپ2019 پر ایک نظر

انگلینڈ نے ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک دلچسپ مقابلے کے بعد اعصاب شکن میچ جیت کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا اور اس کے ساتھ ہی ورلڈ کپ کا بخار اپنے اختتام کو پہنچالیکن ایک بحث کا آغا ز ہواکہ ورلڈ کپ کے کچھ قوانین ایسے تھے جو کرکٹ کے شائقین کے لیے موضوع بحث بن گئے ۔ کچھ ورلڈ کپ فائنل کے فیصلوں پر اعتراض کر رہے ہیں تو کچھ پاکستان کے باہر ہونے پر بات کر رہے ہیں،کچھ رن ریٹ پر تنقید کر رہے ہیںتو کچھ اوور تھرو کے رنز پر اعتراض کر رہے ہیں ۔

اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اچھا کھیلنے کے بعد بھی بدقسمت رہی نیوزی لینڈ کے ساتھ 11پوائنٹس حاصل کر کے برابر رہی مگر رن ریٹ کے بنیاد پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی بد ترین شکست منفی رن ریٹ کا سبب بنی۔ اس شکست نے پا کستان کا رن ریٹ اتنا منفی کر دیا کے پاکستان 5میچز جیتنے کے باوجود بھی وہ رن ریٹ حاصل نا کر سکا جو اسے سیمی فائنل میں پہنچا سکے حالانکہ پاکستان دونوں فائنلسٹ ٹیموں کو شکست دے چکا تھا۔پاکستانی کی ٹیم بیٹنگ بھی اچھی رہی اور بائولنگ بھی اچھی رہی، ٹیم نے صرف ویسٹ انڈیز اور انڈیا کے علاوہ تمام ٹیموں کو ٹف ٹائم دیا۔ پاکستان نے انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست سے دوچار کیا ، جبکہ آسٹریلیا کے ساتھ جیت کے نزدیک آ کر ہمت ہار دی۔ بدقسمتی سے نسبتاً آسان حریف سری لنکا کے ساتھ بارش کے باعث 1پوائنٹ ضائع ہو گیا جو کے ہماری بدقسمی کا باعث بنا، جبکہ نیوزی لینڈ ٹاپ ٹیموں میں سے صرف سائوتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے ہی میں جیت سکا وہ بھی آخری اوور میں۔ نیوزی لینڈ نسبتاً کمزور حریف سری لنکا، افغانستان ، بنگلہ دیش سے جیت سکا جبکہ مضبوط ٹیموں آسٹریلیا، انگلینڈ، اور پاکستان سے ہار گیا ، مضبوط حریف انڈیا کے ساتھ میچ بارش کی نذر ہو گیاتھا جس کے باعث اسے ایک پوائنٹ مل گیا،جس نے نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر پاکستان گروپ میچز میں نیوزی لینڈ سے کافی بہتر کھیلا مگر بدقسمت رہا کہ رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکا۔

تنقید کرنے والے تو اچھی بات پر بھی تنقید کرتے رہتے ہیں جیسے کچھ لوگ ورلڈ کپ کے فارمیٹ پر بھی تنقید کر رہے ہیں 1992ء کے بعد یہ فارمیٹ استعمال ہوا ہے۔ اس فارمیٹ سے تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتی ہیں۔اس کے علاوہ رن ریٹ پر بھی تنقید ہو رہی ہے جو پاکستان کے سیمی فائنل سے باہر ہونے کا سبب بنا ۔اگر پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف 50اوورز کے میچ میں صرف 21اوور ہی کھیل سکی جبکہ وہ ٹارگٹ ویسٹ انڈیز نے 14اوور میں پور ا کر لیاتو پاکستان کا رن ریٹ خرا ب تو ہونا ہی تھا پاکستان افغانستان سے آخری اوو ر میں میچ جیتا جبکہ نیوزی لینڈ نے افغانستان کے ساتھ میچ 32 ویں اوور میں پور ا رکر لیا تھا تو ایسے میچز رن ریٹ پر فرق ڈالتے ہیں جس کا خمیازہ پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی صورت میں نکلا۔

آئی سی سی نے جو بھی قوانین ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے رکھے تھے اسی کے مطابق تمام میچز کھیلے گئے۔آئی سی سی جو بھی قوانین بناتا ہے اس میں کرکٹ کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔اب ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہی آئی سی سی نے ایک قانون بنایا تھا کہ فائنل اوور میں اگر میچ برابر ہو جائے تو سوپر اوور کھیلا جائے گا۔اگر سوپر اوو ر بھی برابر ہوا توجس ٹیم نے زیادہ بائونڈریز لگائی ہوں گی وہی ٹیم جیت کی حقدار ہو گی اس وقت اس قانون پر کسی بھی ماہرِ کرکٹ نے تنقید نہیں کی تھی، جب فائنل میچ سوپر اوور میں گیاتوآئی سی سی نے اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا ۔

مستقبل کے لیے آئی سی سی کو چاہیے کہ اپمپائرنگ کا معیار بہتر کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرے کیونکہ ا پمپائر زکے غلط فیصلے میچ کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں، جس طرح فائنل میچ میں اوو رتھرو ہوئی اور 6رنز دیے گئے جو کرکٹ کے ماہرین کے مطابق 5رنز بنتے تھے، یہ ایک اضافی رن نیوزی لینڈ کوسوپر اوور میں لے گیا جہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تھرڈ ایمپائر کی مدد لی جائے۔ تھرڈ ایمپائر کو یہ اختیار دیا جائے کہ اگر فیلڈ اپمپائر سے فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسی وقت فیلڈ اپمپائر کو آگا ہ کرے تاکہ کسی بھی متنازع صور ت حال سے بچا جاسکے۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں اب آئی سی سی کو ون ڈے میچز میں کم سے کم 2ریویوز کا آپشن ضرور رکھنا چاہیے تاکہ ایمپائر سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تا اس کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ ورلڈ کپ میں اگر 2ریویو کا آپشن ہوتا تو کئی میچزکا فیصلہ تبدیل بھی ہو سکتا تھا۔

نبیل احمد ، کراچی

About ویب ڈیسک

Avatar

Check Also

اہل کراچی روزانہ کم و بیش ایک گرام پلاسٹک بھی کھاتے ہیں!” عالمی رپورٹ "

: ایک عالمی تنظیم کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے که کراچی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے