Home / پاکستان / بچوں کو اسمارٹ فون دےدینا ایک گرام کوکین دینے جیسا ھے”برطانوی ماہر "

بچوں کو اسمارٹ فون دےدینا ایک گرام کوکین دینے جیسا ھے”برطانوی ماہر "

: ٹیکنالوجی پر انحصار اور نوجوانوں کی نشو و نما کے ماہرین کے ایک اجلاس میں بات کرتے ھوئے ہارلےاسٹریٹ ری ہیب کلینک ماہر ، مینڈی سالیگری نے کہا ھے که نوجوان لوگوں میں لت یا عادی ھوجانے کےلئے اسکرین ٹائم کو بطور ایک ممکنہ وسیلہ اکثر اوقات نظر انداز کردیا جاتا ھے. یه بات انہوں نے اس موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی جو چند سال قبل منعقد کی گئی تھی

مینڈی کا کہنا ھے که بچوں کو اسمارٹ فون پکڑا دینا اتنا خطرناک ھے گویا آپ نے انہیں ایک گرام کوکین تھما دی ھو
ہارلےاسٹریٹ کلینک کی ڈائریکٹر محترمہ مینڈی سا لیگری نے بتایا ھے که انکے زیادہ تر مریض بارہ تیرہ سال کی بچیاں ہیں اور وہ جنسی باتوں کے بارے میں پیغامات لکھنے اور بھیجتے رہنے کو عام سا عمل سمجھتی ہیں . انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا که ھم کیوں ان چیزوں پر کم توجه دیتے ہیں جو منشیات اور شراب کی طرح ھی بچوں کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں

کچھ عرصہ قبل لندن میں منعقدہ تعلیمی کانفرنس کے دیگر شرکاء کا بھی کہنا تھا که اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام پر پیغام رسانی کیلئے خرچ ھونے والا وقت بچوں کیلئے ویسی ہی خطرناک لت ھے جیسے منشیات اور شراب اور اسکو اسی طور پر سوچنا اور سمجھا جانا چاہیے

لندن میں کئے گئے سروے جس میں پندرہ سو سے زائد اساتذہ شامل ہوئے که مطابق دو تہائی اساتذہ جانتے ہیں که طلباء جنسی پیغامات کا تبادلہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں اور ہر چھے بچوں میں سے ایک پرائمری کی عمر کا بچہ یا بچی ھے . گزشتہ تین برسوں کے دوران دو ہزار سے زائد بچوں کی رپورٹنگ پولیس میں کی گئی ھے جو نا زیبا تصاویر سے متعلق جرائم کے مرتکب پا ئے گئے تهے
رپورٹ : ڈیلی انڈیپنڈنٹ

About ویب ڈیسک

Avatar

Check Also

کراچی میں دنیا کے سب سے بڑے کتب میلے کے انعقاد کا اعلان

بگ بیڈ وولف بک سیل کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی کتابوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے