Home / پاکستان / عالمی بینک کو جنوبی ایشیا میں آئندہ سال میں شرح نمو 7 فیصد تک ھونے کی توقع . تازہ رپورٹ

عالمی بینک کو جنوبی ایشیا میں آئندہ سال میں شرح نمو 7 فیصد تک ھونے کی توقع . تازہ رپورٹ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے تناظر میں عالمی بینک کو خطے میں بہتر معاشی نمو کے ایک تخمینے کے لحاظ سے 6.9 فیصد رہنے کی توقع ہے جو اس سے قبل لگائے گئے اندازے 7.01 فیصد سے کم ہے اور اس کی ایک وجہ پاکستان کی بگڑتی اقتصادی صورتحال ہے۔ تاہم سال 2020 میں خطے کی شرح نمو 7 فیصد ہونے اور 2021 میں مزید اضافے کے ساتھ 7.1 فیصد ہوجانے کی توقع ہے۔

‘عالمی اقتصادی رجحانات: بڑھتی ہوئی کشیدگی مغلوب سرمایہ کاری‘ نامی رپورٹ میں عالمی بینک نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو سال 20-2019 کے دوران 2.7 تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ تاہم استحکام کے اقدامات اور میکرو اکنامک بہتری کے باعث مالی سال 21-2020 کے آغاز میں معاشی نمو 4 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ عالمی بینک کا یہ بھی کہنا ھے کہ متعلقہ ممالک میں آئندہ مالی سال میں کارکنان کی ترسیلات زر میں اضافے سے کارکردگی اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کی ترقی کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اندرونی ترسیلات زر میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 8.43 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 87 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں یہ 16 ارب 48 کروڑ ڈالر تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے اعلیٰ ترین معاشی امور کے فیصلے کرنے والی قومی اقتصادی کونسل نے بھی آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے علاوہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں سال 2018 کے دوران مقامی طلب کے باعث زبردست ترقی کی بھی نشاندہی کی، جس کی اوسط شرح 7 فیصد رہی۔ جبکه خطے میں مہنگائی کی شرح زیادہ تر اشیا کی قیمتیں مستحکم رہنے کے باعث جزوی طور پر معتدل رہی۔

پاکستان میں اسکے برعکس  حال ہی میں کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث مہنگائی میں واضح اضافہ ہوا ہے اور  اس سے قبل بھی موجودہ مالی سال کے دوران پالیسی ریٹ میں متعدد بار اضافہ کیا جاتا رہا ھے ۔

About ویب ڈیسک

Avatar

Check Also

کراچی میں دنیا کے سب سے بڑے کتب میلے کے انعقاد کا اعلان

بگ بیڈ وولف بک سیل کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی کتابوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے