Home / کاروبار / اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 12.25 فیصد کردی ھے

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 12.25 فیصد کردی ھے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت پاکستان میں بنیادی شرح سود بڑھ کر 12.25 فیصد کردی گئی۔مانیٹری پالیسی میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے مئی تک حکومت نے اسٹیٹ بینک سے ڈھائی گنا زائد قرض لیے جو تقریباً 48 کھرب روپے ہیں۔

مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو سست رہے گی جبکہ زراعت اور صنعت کے شعبوں میں سست روی معاشی سست روی کی اہم وجوہات ہیں۔ مہنگائی کی اوسط شرح 3.8 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں رد و بدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ اضافہ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ درآمدات اور برآمدات میں فرق کم ہو رہا ہے، طلب اور رسد میں فرق کے باعث شرح مبادلہ دباؤ میں ہے اور اس کے اتار چڑھاؤ کی اصل وجہ ماضی کا عدم توازن ہے۔اسٹیٹ بینک، کرنسی مارکیٹ میں کسی بڑی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔

رواں مالی سال مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہنے کا امکان ہے جس کی بڑی وجہ ٹیکس میں کمی اور سود کی مد میں ادائیگیاں ہیں۔ حکومت نےجاری سال کے دوران اسٹیٹ بینک سے 2.4 گنا زیادہ قرض لیا جبکہ مانیٹری پالیسی سخت کیے جانے کے باوجود نجی شعبے کے قرض میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں سال حقیقی جی ڈی پی نمو کا دو تہائی سے زائد حصہ خدمات سے آئیں گے اور سال 2020 میں شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔

About ویب ڈیسک

Avatar

Check Also

ایف بی آر نے جائیداد کی سرکاری قیمتوں میں 20 سے لے کر 66 فیصد تک اضافہ کردیا

ایف بی آر نے کراچی کی جائیدادوں کی 11 کیٹگریز کو برقرار رکھتے ہوئے نئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے