Home / کاروبار / پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ نے بلاسود قرضوں کے پروگرام پر انٹرنیشنل ایوارڈ اپنے نام کرلیا

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ نے بلاسود قرضوں کے پروگرام پر انٹرنیشنل ایوارڈ اپنے نام کرلیا

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ تقریب میں اسلامک فنانس انڈسٹری میں بہترین کارکردگی پر سی آئی ایس اسلامک بینکنگ و فنانس ایوارڈ جیت لیا ہے۔ پی پی اے ایف نے یہ ایوارڈ پاکستان بھر میں بلاسود قرضوںکے پروگرام پر کامیابی سے عمل درآمد کرنے پر حاصل کیا ہے۔ سی آئی ایس اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس ایوارڈز الہدی سی آئی بی ای کا غیرمعمولی اعزاز ہے جس کا مقصد اسلامک مائیکروفنانس انڈسٹری کے تصور کو فروغ دینا اور شاندار کارکردگی کے حامل رہنماؤں کی حوصلہ افزائی ہے۔

یہ ایوارڈز بین الاقوامی مائیکروفنانس اداروں، تکافل و لیزنگ کمپنیوں، بینکوں اور اسلامک مائیکروفنانس کے شعبے میں غیرمعمولی خدمات پیش کرنے والے افراد کو 15 مختلف کٹیگریوں میں پیش کیا گیا۔ پی پی اے ایف کو بلاسود قرضوںکے پروگرام کے تحت پاکستان کے غریب ومتوسط طبقوں کے افراد بالخصوص خواتین کی مالی ضروریات پوری کرنے کی بنا پر اس ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔ قرضوں کے اس پروگرام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ معاشرے کے جن طبقوں میں روایتی مائیکرو فنانس کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا وہاں اسلامک مائیکروفنانس کو باآسانی قبول کیا جائے ۔ ان قرضہ جات کے حصول کے لئے ڈاکومنٹیشن، پروسیسنگ، انشورنس وغیرہ کے لئے کسی اضافی ادائیگی/ فیس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پروگرام کے تحت اپنا کاروبار کرنے کے لئے قرضوں کے بہترین استعمال کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔پی پی اے ایف کا بلاسود قرضوں کا پروگرام حکومت پاکستان کے ‘احساس’ پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ غربت کے خاتمہ اور سوشل سیفٹی ڈیویژن کے تحت تخفیف غربت کے کام کیلئے بنیادی اقدام ہے۔

تاشقند میں تقسیم ایوارڈز کی اس تقریب میں ازبکستان میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر عرفان یوسف شامی مہمان خصوصی تھے جنہوں نے اس فورم کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اسلامک فنانس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسط ایشیائی ممالک میں انٹرنیشنل بینکنگ و فنانس اداروں کے آنے سے اسلامک بینکنگ اور فنانس کے شعبے میں پیدا ہونے والے رجحانات دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سفیر ڈاکٹر عرفان یوسف شامی نے کہا کہ اسلامک بینکنگ و فنانس سے غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، عالمی سطح پر رابطے بڑھیں گے، نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، سماجی و معاشی ترقی آئے گی اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بطور پاکستانی سفیر اسلامک فنانس کو فروغ دینے کے لئے ہر سطح پر فعال کردار ادا کیا ہے جس سے مقامی افراد کی زندگیوں میں آسانی کی راہ ہموار ہورہی ہے اور وہ دنیا میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔

پی پی اے ایف کے جنرل منیجر فرید صابر نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ پی پی اے ایف اپریل 2019 تک 5 لاکھ 24 ہزار سے زائد مستحق افراد کو بلاسود قرضے فراہم کرچکا ہے۔ ان میں سے 67 فیصد خواتین ہیں اور ملک بھر میں 26 شراکتی تنظیموں کے ذریعے 45 اضلاع کی 442 یونین کونسلوں میں 12.9 ارب روپے تقسیم کرچکا ہے ۔ بلاسود قرضہ کی اوسط رقم 24 ہزار 596 روپے ہے اور قرضوں کی واپسی کی شرح 95 فیصد سے زائد ہے۔ اس پروگرام سے براہ راست 5 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے جبکہ 30 لاکھ افراد بلواسطہ مستفید ہوئے۔ انہوں نے غربت کے خاتمہ اور مالیاتی خدمات کی فراہمی کے لئے بلاسود قرضے کے پروگرام کو اہم قرار دیا ، یہ پروگرام غربت سے انتہائی متاثرہ افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے پی پی اے ایف کی جامع اور پائیدار حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے۔

اس تقریب میں اسلامک بینکنگ و فنانس، اسلامک انشورنس، اور بینکنگ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے نمایاں اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔ دولت مشترکہ کی خود مختار ریاستیں (سی آئی ایس) ایک علاقائی بین الحکومتی تنظیم ہے جس میں قازقستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزستان، ترکمانستان، آذربائیجان، روس، آرمینیا، بیلاروس، مولدوا اور یوکرائن سمیت 11 ممالک شامل ہیں۔ اس فورم کا مقصد سی آئی ایس ممالک میں اسلامک بینکنگ و فنانس کی انڈسٹری کو فروغ، مستحکم اور متحد کرنا ہے۔

اس فورم میں سی آئی ایس ممالک میں مالیاتی خدمات، فنانشل ٹیکنالوجی، تکافل، سکوک ، اسلامک کیپٹل مارکیٹس، اسلامک مائیکروفنانس کے پھیلائو کے مواقع پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔ اس فورم کا انعقاد الہدی سینٹر آف اسلامک بینکنگ اینڈ اکنامکس (متحدہ عرب امارات) نے اسلامک کارپوریشن فار ڈیولپمنٹ آف پرائیویٹ سیکٹر (آئی سی ڈی)، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک (آئی ز ڈی بی) اور ازبکستان بینک ایسوسی ایشن کے اشتراک سے کیا گیا ۔

پی پی اے ایف کے بارے میں

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف )ملک میں غربت کے خاتمہ کے لئے کام کرنے والا ادارہ ہے جو کمیونٹی کی جانب سے چلائی جانیوالی مائیکرو کریڈٹ میں ترقی، گزر اوقات، دوبارہ قابل استعمال توانائی، پانی اور انفراسٹرکچر، قحط سالی میں کمی، تعلیم، صحت، معذوری، مہارت میں بہتری اور تربیت، سماجی و ماحولیاتی تحفظ اور ایمرجنسی سے نبٹنے پر کام کرتا ہے۔ یہ پاکستان بھر کے 137اضلاع میں موجود ہے جبکہ اسکی 130 تنظیموں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد گاؤں /آبادکاریوں کی شراکت داری ہے جبکہ ان کے ہمراہ ایک لاکھ 33ہزار سے زائد کمیونٹی ادارے اور نچلی سطح پر چار لاکھ 40 ہزار کریڈٹ/کامن انٹرسٹ گروپس ہیں۔

About ویب ڈیسک

Avatar

Check Also

ایف بی آر نے جائیداد کی سرکاری قیمتوں میں 20 سے لے کر 66 فیصد تک اضافہ کردیا

ایف بی آر نے کراچی کی جائیدادوں کی 11 کیٹگریز کو برقرار رکھتے ہوئے نئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے